ابنا: شام نے خبردار کیا ہے کہ اس ملک کے خلاف فوجی حملے کی صورت میں وہ اسرائیل کو بھی نشانہ بنائے گا۔ ادھر شام کے موجودہ صدر بشار اسد نے بھی اس سلسلے میں اس طرح کے ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شامی افواج پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام ایک سیاسی ہتھکنڈا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربی ملکوں کی جانب سے شام پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگانا مفاہمت آمیز منطق کی توہین ہے اور یہ کس طرح ممکن ہےکہ حکومت اس جگہ کیمیاوی ہتھیار استعمال کرے جہاں خود اس کی فوجیں ہوں۔ انہوں نے امریکہ کو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے شام پر حملہ کیا تو شکست کھاجائے گا۔شام کی موجودہ حکومت اور فوج کے خلاف سازش اور شامی فورسز کی جانب سے دمشق کے اطراف کے علاقوں میں دہشتگردوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی وجہ سے امریکہ اب اس جنگ میں براہ راست کود پڑا ہے۔ امریکی حکام ہر روز کسی نئے بہانے کے ساتھ شام کو دھمکیاں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں جس کی تازہ ترین مثال بحیرہ اقیانوس میں چار جنگی جہازوں کی شام کے ساحلوں کی جانب پیش قدمی ہے۔ زرائع کے مطابق پینٹاگون نے بھی اس بات کی تاکید کی ہے اور پینٹاگون کے اعلٰی عہدے دار کا کہنا ہے کہ یہ چاروں بحری بیڑے آمادہ و تیار احکامات کے منتظر ہیں۔ جب بھی انکو حکم دیا جائے گا یہ اپنا کام شروع کر دیں گے۔ امریکی وزیر جنگ چک ہیگل نے کہا ہے کہ امریکہ شام کے اطراف بحری جہاز اور فوجیں تعینات کررہا ہے تاکہ اگر صدر اوباما نے شام پرحملوں کا حکم دیا تو انہیں کام میں لایا جاسکے۔ امریکی وزیر جنگ کا یہ بیان ایسے عالم میں آیا ہےکہ جمعے کے دن امریکہ کے بعض فوجی ذرائع نے کہا تھا کہ امریکہ شام پرحملے کرنے کی تیاریاں کررہا ہے۔ امریکی وزیر جنگ نے تفصیلات بتانے سے انکار کیا تاہم اتنا کہا کہ صدر اوبامانے شام کےخلاف فوجی آپشن کو مد نظر رکھنے کو کہا ہےاور اس کے لئے تیاریوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کی جارہی ہیں دوسری جانب برطانیہ نے بھی اپنا بحری بیڑہ HMS بحیرہ اقیانوس کی جانب روانہ کر دیا ہے۔ اور امریکی ٹی وی چینلز کے مطابق امریکی صدر ایک دو دن میں شام پر حملے کے سلسلے میں عوام کو اعتماد میں لیں گے۔لیکن گذشتہ کی طرح اس بار بھی میڈیا نے اپنے آقائوں کی خدمت انجام دیتے ہوئے دنیا بھر میں عوام کو تصویر کا صرف ایک رخ دکھایا ہے اور اس وقت دنیا بھر کے اخبارات اور میڈیا صرف شام پر حملے کی خبر اور شامی حکومت کے مخالفین کی جانب سے اس جنگ میں جیت کے دعوے کی خبریں بڑے زور و شور سے عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔آئیے ہم آپ کو تصویر کا دوسرا رخ دکھاتے ہیں۔شام اس وقت دو بڑی خصوصیات کا حامل ہے۔ پہلی خصوصیت یہ ہے کہ شام خطے میں اپنی میزائیل ٹیکنالوجی کی وجہ سے سب سے طاقتور ملک تصور کیا جاتا ہے۔ اور اس قدرت و طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی اعلیٰ حکام کئی بار اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ حزب اللہ کے میزائیل اتنے زیادہ جدید ٹیکنالوجی کے حامل ہیں کہ ہماری میزائیل شیلڈ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔مئیر الران جو کہ غاصب صہیونی فوج کا جنرل ہے اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کے میزائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اوراس بات کی تاکید حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے پچھلے سال اگست کے مہینے المیادین ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں بھی کی تھی کہ ۳۳ روزہ جنگ میں جو میزائیل حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کے خلاف استعمال کئے تھے اسکی ٹیکنالوجی در اصل شام سے ہی بر آمد کی گئی تھی۔شام کے ہتھیاروں کے زخائر میں روسی ساختہ یاخونت میزائیل کچھ زیادہ ہی چمکتے دمکتے نظر آتے ہیں۔ چند ماہ پہلے امریکی حکام نے اعلان کیا تھا کہ روس نے بحری بیڑے تباہ کرنے والے جدید ترین میزائیل شام کے حوالے کر دیئے ہیں اور ان جدید میزائیلوں سے انکی مراد یاخونت میزائیل ہی تھے جنکی جدید قسم اپنے پیشرفتہ ریڈار سسٹم کی وجہ سے اپنے ہدف کو بہت زیادہ دقت کے ساتھ نشانہ بناتی ہے۔ اس میزائیل کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے دوسرے روسی میزائیلوں کے بر عکس یہ میزائیل بحری جہاز کے علاوہ ساحل سے بھی اپنے دشمن کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس میزائیل کی مزید خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:۱: یہ میزائیل ساحل سمندر، سب میرین، ہوائی جہاز اور بحری جہاز سے فائر کیا جاسکتا ہے۔۲: فائر کے بعد تقریبا ۱۵۰۰ میٹر کی بلندی تک جاتا ہے تاکہ اپنے ہدف کو بہتر انداز میں نشانہ بنا سکے۔۳: اپنے ٹارگٹ کے نزدیک پہنچنے پر پانی کی سطح سے تقریبا ۵ یا ۱۰ میٹر کی بلندی پر سفر کرتا ہے، یعنی وہ جگہ جہاں تک ریڈار کی پہنچ نہیں ہوتی اور اس طرح اینٹی میزائیل شیلڈ کے فعال ہونے سے پہلے ہی یہ اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنا لیتا ہے۔۴: اس میزائیل کی رفتار آواز کی رفتار سے دوگنی ہے۔۵: اس میزائیل میں ۳۰۰ کلو میٹر تک ۳ ٹن وزن لے جانے کی صلاحیت موجود ہے۔چند دنوں پہلے غاصب اسرائیل نے یہ اعلان کیا تھا کہ اس نے شام میں ایک آپریشن کے زریعے روسی ساختہ میزائیل کا زخیرہ تباہ کر دیا ہے لیکن امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی انٹیلیجنس ماہرین نے غاصب اسرائیل کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اپنے اس آپریشن میں ناکام رہا ہے اور خود اسرائیلی اخبارات کے مطابق شامی فوج نے اس حملے سے قبل تمام تر میزائیل دوسری جگہ منتقل کر دیئے تھے۔اور دوسری خصوصیت کہ اگر ہم ان میزائیلوں کی بات نہ بھی کریں اور دنیا کے سامنے حزب اللہ اور شام کی فوجی صلاحیتوں کا ذکر نہ بھی کریں تب بھی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس وقت شام کی مقدس سرزمین کا دفاع کرنے والے جوان جذبہ ایمان سے سر شار ہیں اور یہ وہ قوت و طاقت ہے جس کے بل بوتے پر حضرت داوود علیہ السلام جیسا کمزور اور ناتوان شخص جالوت جیسے طاقت کے نشے میں چور ظالم اور جابر سے جنگ جیت جاتا ہے اور خداوند متعال بھی فرماتا ہے کہ قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّـهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ ﴿التوبة: ١٤﴾ان سے جنگ کرو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے سزا دے گا اور رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر فتح عطا کرے گا اور صاحب ایمان قوم کے دلوں کو ٹھنڈا کردے گا۔اور یہ ہماری کہنے کی باتیں بھی نہیں ہیں اسکا عملی مظاہرہ تو دنیا کئی بار اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہے۔ اسرائیل فوجوں اور امریکہ و برطانیہ، سعودی عرب و قطر کی منافقانہ اور جارحانہ پالیسیوں کا متعدد بار منہ توڑ جواب دے چکی ہے۔ بلاشبہ ہمیں حزب اللہ لبنان کے با ایمان اور غیور جوانوں پر اطمینان اور بھروسہ ہے ۔ یہ اپنے جذبہ ایمانی اور غیرت دینی کی وجہ سے کبھی بھی دشمن کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ شام یا لبنان کی سر زمین کے ایک اینچ پر بھی قبضہ کرسکیں۔اور اس بات کا بھی یقین ہے کہ اگر اس بار پھر اس خطے میں کوئی جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو انشااللہ یہ اسرائیل کے ناپاک وجود کے خاتمے پر ہی اختتام پذیر ہو گی۔اور بے شکوَيَنصُرَكَ اللَّـهُ نَصْرًا عَزِيزًا ﴿الفتح: ٣﴾اور اللہ زبردست طریقہ سے آپ کی مدد کرے گا۔انشا اللہ
.......
/169